لکھنؤ،28؍اگست (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش کی حکومت نے آج دعوی کیا کہ موجودہ وقت میں سابقہ ایس پی حکومت کے مقابلے قانون ونظام کئی گنا بہتر ہواہے۔
اسمبلی میں پارلیمانی امور کے وزیر سریش کھنہ نے کہاکہ حزب اختلاف کے رہنما قانون کو لے کر الزام لگاتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ یہ حکومت مجرموں کے ساتھ کھڑی ہے یا ستائے گئے لوگوں کے ساتھ ۔جن کے ساتھ کھڑی ہے حکومت۔(اپوزیشن لیڈروں نے)یہ تو بتایا کہ واقعات ہوئے لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس مجرم کا حشر کیا ہوا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ جرائم ختم ہو جائیں گے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایس پی حکومت کے مقابلے بی جے پی حکومت کے وقت قانون ونظام کئی گنا بہتر ہے۔ہم نے ہر قدم پر کوشش کی اور مجرموں پر کارروائی کی۔
کھنہ نے واضح کیا کہ انکاؤنٹر کرنے کی کوئی پالیسی نہیں ہے لیکن اگر پولیس پر مجرم گولی چلائے گا تو پولیس اپنے دفاع میں گولی چلائے گی۔دیوریا کیس پر وزیر نے کہا کہ شیلٹر ہوم نے 2009میں رجسٹریشن کے لئے درخواست دی تھی۔اسے 2012 میں منظوری ملی۔اسے ایڈاپشن کی منظوری 2014 میں ملی۔ہماری حکومت کے نوٹس میں جیسے ہی یہ بات آئی ویسے ہی اس کی منظوری کو منسوخ کیا گیا اور اس کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا۔اس سے پہلے اپوزیشن لیڈر رام گووند چودھری نے کہا کہ موجودہ وقت میں گنڈا گردی، عصمت دری، ، قتل اور خواتین کے ساتھ زیادتی اپنے شباب پر ہے۔قانون و نظام کی صورتحال بہت خراب ہے۔جنگل راج قائم ہے۔ بی ایس پی کے لال جی ورما نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے انتخابات سے پہلے بہت اچھا نعرہ دیا تھا۔نہ غنڈہ راج نہ بدعنوانی، اب کی بار بی جے پی حکومت اور جب بی جے پی کی حکومت بن گئی تو غنڈہ راج دوگنا سے زیادہ ہوگیا۔بدعنوانی میں بھی بڑے پیمانے پر خاص طورپر قانون کی حفاظت کرنے والے اداروں میں بدعنوانی کئی گنا بڑھی ہے۔
وہیں انہوں نے کہا کہ جرائم کو کنٹرول کرنے والی پولیس اور تھانوں میں چاہے کوئی بھی ضلع ہو، پولیس کی بدعنوانی کئی گنا بڑھی ہے۔قانون ونظام اسی وجہ سے منہدم ہوتا جا رہا ہے۔اتر پردیش کی حکومت نے آج کہا کہ ریاست کی افسر شاہی پر اس کا مکمل کنٹرول ہے اور اگر کسی افسر نے عوامی نمائندے کی توہین یا نظر اندازکیا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ریاست اسمبلی میں پارلیمانی امور کے وزیر سریش کھنہ نے کہاکہ حکومت کا افسرشاہی پر مکمل کنٹرول ہے۔ہم کسی کو بچانے کے لئے نہیں کھڑے ہیں۔اگر کوئی عوامی نمائندے کسی افسر کی طرف سے نظر انداز یا بے عزتی کی شکایت کرتا ہے تو ہم ضرور کارروائی کریں گے۔چاہے وہ کتنا بھی بڑا افسر کیوں نہ ہو۔